ملکی معیشت میں توانائی کے شعبے کا زخم ناسور بنتا جارہا ہے، مصطفیٰ کمال

0

فوٹو: ایکسپریس نیوز

فوٹو: ایکسپریس نیوز

  کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر رہنما سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں توانائی کے شعبے کا زخم اب ناسور بنتا جارہا ہے، توانائی کے شعبے کے سالانہ گردشی قرضے پورے ملک کے ترقیاتی بجٹ سے بھی زیادہ ہیں۔

ان خیالات کا اظہار سید مصطفیٰ کمال نے کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے مرکزی الیکشن آفس پاکستان ہاؤس میں اراکین اسمبلی کے ہمراہ ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما انیس قائمخانی بھی موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان ایک ذمے دار سیاسی جماعت ہے جو مسئلے کی نشاندہی کے ساتھ اُس کا حل بھی مثالوں کے ساتھ پیش کر رہی ہے، دنیا بھر میں شہریوں کو ایک سے زائد بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے آپشن موجود ہوتے ہیں، جو شہری جس کمپنی کو بہتر سمجھے اُس کمپنی سے اپنے گھر بجلی کا کنکشن لگواسکتا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں ایک ایک بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کو ایک ایک شہر کا مالک بنا دیا گیا ہے اور انہوں نے  ایسی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے جس میں شہریوں کی زندگی عذاب ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ باقاعدگی سے بل بھرتے ہیں ان سے بجلی چوری کرنے والوں کے حصے کا بل بھی لیا جاتا ہے اور بجلی چوری کے نقصان کو کم کرنے کیلیے کم بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ کراچی جیسے میٹروپولیٹن شہر میں 18 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے جس کا شکار وہ لوگ بھی بن رہے ہیں جو بے چارے بھاری بھرکم بل بھرتے ہیں۔

سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایم کیو ایم ڈسکوز کی نجکاری کے خلاف نہیں ہے لیکن نجکاری کرنے سے پہلے یہ دیکھا جائے کہ آپ نجکاری کس کام کی کرنے جا رہے ہیں اور ساتھ ہی کے الیکٹرک کی نجکاری کے جو نتائج آج عوام بھگت رہے ہیں اُسے بھی سامنے رکھا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مسئلے سے پاکستان اور عوام کو نکالنے کا واحد حل یہ ہے کہ ٹیلی کوز کی طرز پر ملک بھر میں ایک سے زائد بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کو لائسنس کا اجرا کیا جائے تاکہ معیار اور قیمت دونوں مناسب ہوں اور کوئی بھی کمپنی اپنی اجارہ داری قائم نہ کر سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے ادارے اور دوست ممالک جنہیں پاکستان نے ڈالرز میں رقم ادا کرنا ہے اُن کے ساتھ بیٹھیں اور اس ادائیگی کو ری اسٹرکچر کیا جانا چاہیے۔


%d9%85%d9%84%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%b4%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d9%88%d8%a7%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b4%d8%b9%d8%a8%db%92-%da%a9%d8%a7-%d8%b2%d8%ae%d9%85-%d9%86%d8%a7

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *