لوڈشیڈنگ کے ستائے عوام بپھر گئے، پیسکو آفس پر دھاوا، سامان باہر پھینک دیا

0

مشتعل مظاہرین نے پیسکو آفس میں توڑ پھوڑ کی اور نعرے لگائے (فوٹو: اسکرین گریب)

مشتعل مظاہرین نے پیسکو آفس میں توڑ پھوڑ کی اور نعرے لگائے (فوٹو: اسکرین گریب)

ڈی آئی خان: لوڈشیڈنگ کے ستائے عوام نے پارہ لبریز ہونے پر پیسکو آفس پر دھاوا بول ڈالا اور توڑ پھوڑ کرتے ہوئے سامان دفتر کے باہر پھینک دیا۔

لکی مروت سرائے نورنگ میں بجلی کی طویل بندش اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے ستائے عوام گھروں سے نکل آئے۔ اہلیان ممہ خیل نے حزب اللہ خان اور فرہاد خان کی قیادت میں احتجاج کرتے ہوئے پیسکو کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

مشتعل افراد نے پیسکو آفس سرائے نورنگ میں داخل ہوکر توڑ پھوڑ کی، جس سے املاک کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا جب کہ اس موقع پر پولیس بھی لوڈشیڈنگ کے ستائے بپھرے ہوئے عوام کو مشتعل کرنے میں ناکام رہی۔

بعد ازاں ممہ خیل قوم کے مشران اور انتظامیہ کے درمیان مذاکرات ہوئے جو پیسکو حکام کی عدم شرکت کے باعث ناکام ہو گئے، جس کے بعد مشتعل مظاہرین نے بنوں ڈیرہ روڈ کو ممہ خیل پھاٹک پر پتھراؤ کرکے بلاک کردیا۔ مظاہرین نے گرڈ اسٹیشن پر پتھراؤ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔

دوسری جانب ترجمان پیسکو کے مطابق سرائے نورنگ گرڈ اسٹیشن پر مشتعل مظاہرین نے دھاوا بولا، جو ہاتھوں میں لاٹھیاں اور پتھر اٹھائے پیسکو گرڈ اسٹیشن میں داخل ہوئے۔ مظاہرین نے گرڈ اسٹیشن میں توڑ پھوڑ کی، پتھراؤ کیا اور سامان اٹھا کر باہر پھینک دیا۔ مظاہرین نے میٹرز اٹھا کر باہرپھینک دیے جس سے لاکھوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ مظاہرین نے سرائے نورنگ گرڈ اسٹیشن سے بجلی کی سپلائی مکمل طور پر بند کر دی۔

بیان میں پیسکو ترجمان نے مزید کہا کہ مظاہرین کی جانب سے گرڈ اسٹیشن بند کرنے سے شہر بھر میں بجلی کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ مظاہرین کا تعلق ممہ خیل فیڈر سے ہے جنہوں نے لوڈشیڈنگ کیخلاف پیسکو گرڈ پر حملہ کیا۔ ممہ خیل فیڈر پر لائن لاسز 68 فیصد سے زائد ہیں، جس کی وجہ سے فیڈر پر معمول کے مطابق لوڈ مینجمنٹ کی جاتی ہے۔ اس کے بعد مظاہرین نے پیسکو فیلڈ اسٹور اور متعلقہ سب ڈویژن آفس پر بھی حملہ کیا۔ مظاہرین کی جانب سے سرائے نورنگ میں شاہراہ بند کر کے احتجاج کیا جا رہا ہے۔


%d9%84%d9%88%da%88%d8%b4%db%8c%da%88%d9%86%da%af-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d8%a6%db%92-%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85-%d8%a8%d9%be%da%be%d8%b1-%da%af%d8%a6%db%92%d8%8c-%d9%be%db%8c%d8%b3%da%a9%d9%88

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *