وائرس نے ایک پروفیسر کی جان بچا لی

0

سٹیفائن سٹریتھڈی اور اس کے شوہر، ٹام پیٹرسن کے الم ناک سفر کا آغاز 2015ء میں ہوا۔ ٹام پروفیسرنفسیات کی حیثیت سے کیلی فورنیا یونیورسٹی سان ڈیاگو میں کام کرتا تھا۔ سٹیفائن چھوتی امراض کی ماہر اور شوہر کی یونیورسٹی ہی سے منسلک تھی۔

دونوں اس سال چھٹیاں منانے مصر گئے۔ وہاں انھوں نے اہرام مصر دیکھے اور دریائے نیل کے کنارے بہترین وقت گذارا۔ پھر ٹام آفت کا نشانہ بن گیا۔ ایک دن اچانک پیٹ میں مروڑ اٹھے۔ سٹیفائن شوہر کو لیے قاہرہ کے مقامی کلینک پہنچی۔ خیال تھا کہ غذائی جراثیم نے پیٹ خراب کر دیا۔ مگر کلینک کا ڈاکٹر علاج نہ کر سکا اور درد جاری رہا۔ تب سٹیفائن اسے ایک اسپتال لے گئی۔ وہاں بھی ڈاکٹروں کو سمجھ نہیں آئی کہ ٹام کے ساتھ مسئلہ کیا ہے۔ آخر پیٹ میں درد کیوں ہے؟

افاقہ نہیں ہوا تو میاں بیوی چھٹیوں کی تفریح چھوڑ کر برلن (جرمنی) پہنچے کہ وہاں امراض معدہ کے مشہور ڈاکٹر موجود تھے۔ یوں ان کا سارا پلان غارت ہو گیا۔ جدید طبی آلات کی مدد سے تشخیص ہوئی کہ ٹام پر جرثومے ’’ایسنٹوبیکٹر بومانی‘‘ (Acinetobacter baumannii) نے حملہ کر دیا ہے جسے ’’سپر بگ‘‘کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد انسان پہ حملہ آور وہ جراثیم ہیں جن پر اینٹی بائیوٹک ادویہ اثر نہیں کرتیں یا انھیں بڑی مشکل سے ختم کیا جاتا ہے۔

حملہ آور جرثومہ ٹام کے پیٹ میں آبلے بنا کر پھل پھول رہا تھا۔ انہی کی وجہ سے پیٹ میں درد تھا۔ یہ جرثومہ انسان کے بدن میں پہنچ کر اس کے خلیے تباہ کرتا ہے۔ انسان رفتہ رفتہ مختلف طبی مسائل میں شکار ہو کر موت کے منہ تک پہنچ جاتا ہے۔ علاج کامیاب نہ ہو، یعنی ایسنٹوبیکٹر بومانی مارا نہیں جا سکے تو وہ مریض کی جان لے کر دم لیتا ہے۔ جرمن ڈاکٹروں نے درست تشخیص تو کر لی مگر وہ جرثومہ ختم نہیں کر سکے۔ سٹیفائن نے مناسب جانا کہ شوہر کو وطن لے جائے۔ چناں چہ ٹام کو امریکا لا کر سان ڈیاگو کے اسپتال داخل کرا دیا۔

یادگار لمحہ

رنج و غم کے عالم میں فروری 2016ء کا یادگار لمحہ آ پہنچا۔ تب سٹیفائن آنکھوں میں آنسو لیے محبوب شوہر کے سرہانے بیٹھی تھی۔ ٹام حسب ِمعمول عالم غنودگی میں تھا۔ سانس دھیرے دھیرے آجا رہی تھی۔ بچے جوان ہو کر اپنی زندگیوں میں مگن تھے۔ اس لیے اب وہ ایک دوسرے کا سہارا تھے۔

بہت پیار بھی کرتے تھے۔ قدرت الہی نے انھیں ہر نعمت عطا فرمائی تھی۔ تبھی کٹھن و جان گسل امتحان شروع ہو گیا۔ سٹیفائن کے جی میں نہ جانے کیا آیا، اس نے ٹام کا ہاتھ سہلاتے ہوئے کہا:’’پیارے! ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ اب تم بس چند دن کے مہمان ہو مگر میں تمھیں کھونا نہیں چاہتی۔میں تمھاری زندگی بچانے کے لیے اپنی جان پر بھی کھیل جاؤں گی۔ مگر مجھے معلوم ہونا چاہیے کہ کیا تم بھی میرے لیے زندہ رہنا چاہتے ہو؟ مجھے نہیں علم کہ تم میری بات سن رہے ہو یا نہیں۔ میری بات سمجھ چکے تو میرا ہاتھ ہولے سے دبا دو۔‘‘

کچھ توقف کے بعد اسے اپنے ہاتھ پہ دباؤ کا احساس ہوا۔ دیکھا کہ ٹام اس کا ہاتھ دبا رہا تھا۔ سٹیفائن نے شوہر کا ہاتھ چوم لیا۔ پھر اس نے قسم کھائی کہ وہ ٹام کی جان بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔ خاوند کی زندگی بچانا اب سب سے بڑا مشن بن گیا۔ اسی مشن نے ایک بیوی کو جوش وجذبے سے بھر دیا اور وہ اپنے اندر نئی توانائی محسوس کرنے لگی۔

نیا خیال چمک گیا

سٹیفائن کی خوش قسمتی کہ وہ بھی طب کے شعبے سے تعلق رکھتی تھی۔ اسی لیے کتابوں اور انٹرنیٹ کی مدد سے ایسا طریق علاج ڈھونڈنے لگی جو ’ایسنٹوبیکٹر بومانی‘ جیسے سخت جان جراثیم کو بھی مار ڈالے۔ بڑی مغزماری کے بعد اسے ایک طریق علاج، ’’بیکٹروفیج تھراپی ‘‘ کا پتا چلا۔ اس طریقے میں ان وائرسوں کی مدد سے انسانوں میں بیماریاں پھیلاتے جراثیم کو ختم کیا جاتا ہے جو کسی اینٹی بائیوٹک دوا سے نہیں مرتے۔

ہماری زمین پہ کھربوں وائرس پائے جاتے ہیں۔ ان کی کروڑوں اقسام ہیں۔ تاہم چند اقسام کے وائرس ہی انسانوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ ماہرین کے نزدیک وجہ یہ ہے کہ وائرس بڑے من موجی ہیں، وہ صرف اپنی پسند کے خلیوں پہ حملہ آور ہوتے ہیں۔ یہ خصوصیت بنی نوع انسان کے لیے مفید ہے کیونکہ وائرسوں کی بہت سی اقسام جراثیم کو بھی نشانہ بناتی ہیں۔ یہ وائرس طبی اصطلاح میں ’’بیکٹروفیج‘‘ (Bacteriophage) کہلاتے ہیں۔

بیکٹروفیج وائرس برطانوی ماہر جرثومیات، فریڈرک ٹورٹ نے 1915ء میں دریافت کیے۔ اس کے بعد دیگر ماہرین طب ان خصوصی وائرسوں پہ تحقیق کرنے لگے۔ ان میں نمایاں نام جارجیا کے ماہر جرثومیات، جارج ایلوا کا تھا۔ اس نے 1932ء میں تبلیسی میں جارج ایلوا انسٹی ٹیوٹ کی بنیاد رکھی۔ مقصد یہ تھا کہ ادارے سے منسلک ماہرین ایسے بیکٹروفیج تلاش کریں جو انسانوں میں امراض پیدا کرنے والے جراثیم کا قلع قمع کر سکیں۔

بیکٹروفیج ان جہگوں میں بہ کثرت ملتے ہیں جہاں جراثیم بڑی تعداد میں ہوں، جیسے سیوریج کے پانی میں، کوڑے کرکٹ کے اندر، ان پائپوں میں جو گندا پانی کسی ندی، دریا یا سمندر میں ڈالتے ہیں اور مریضوں کے پاخانے میں۔ غرض بیکٹروفیج اور جراثیم کا چولی دامن جیسا ساتھ ہے۔ اگر دنیا میں اربوں کھربوں جراثیم موجود ہیں، تو انہی کی ٹکر پہ کھربوں بیکٹروفیج بھی پائے جاتے ہیں۔

قبل ازیں بتایا گیا کہ وائرس صرف اپنی پسند کے خلیوں ہی پہ حملہ کرتے ہیں۔ چناں چہ بیکٹروفیج تھراپی کے ماہرین کو سب سے پہلے اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑا کہ مخصوص انسانی بیماری کو جنم دینے والا جرثومہ کس بیکٹروفیج کا نوالہ بنتا ہے۔ وائرس کی کروڑوں اقسام ہیں لہذا مطلوبہ بیکٹروفیج تلاش کرنا آٹے میں سے نمک تلاش کرنے کے مترادف ہو گیا۔ اسی مسئلے کے باعث بیکٹروفیج تھراپی ترقی نہیں کر سکی۔ ماہرین ایسے چند ہی بیکٹروفیج ڈھونڈ سکے جو بیماریاں پیدا کرتے جراثیم کو نشانہ بناتے ہیں۔

جب سٹیفائن کو اس طریق علاج کا علم ہوا تو گویا اندھیرے میں اْمید کی کرن نمودار ہو گئی۔ مگر اسے بھی اسی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا …یہ کہ وہ کون سا بیکٹروفیج ہے جو ٹام کے بدن میں پلتے بڑھتے سپر بگ کا خاتمہ کر سکے۔ اس کی تلاش بنیادی چیلنج بن گیا۔

سٹیفائن نے پہلے تو بیکٹروفیج تھراپی کا عمیق مطالعہ کیا تاکہ اسے بخوبی سمجھ سکے۔ وہ پھر تحقیق کرنے لگی کہ کن ممالک میں کون سے طبی سائنس داں اس طریق علاج پہ تحقیق وتجربات کر رہے ہیں۔ سٹیفائن نے بعد ازاں ایسنٹوبیکٹر بومانی کے خلاف اپنی جنگ کی داستان کتاب ’’پرفیکٹ پریڈیٹر‘‘(The Perfect Predator) میں رقم کی۔ وہ لکھتی ہے: ’’میں نے ایسے لوگوں کو ای میلیں کیں جو بالکل اجنبی تھے۔ ان کے سامنے گڑگڑائی کہ خدارا میری مدد کریں اور میرے شوہر کو مرنے سے بچا لیں۔‘‘

مدد آن پہنچی

خدا تعالی کو مصیبت میں گرفتار خاتون پہ رحم آگیا۔ جلد ہی ایک اجنبی اور ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی میں پروفیسر بائیوکیمسٹری، رے لینڈ ینگ نے سٹیفائن سے رابطہ کیا۔ اسے آفت زدہ عورت پہ بہت ترس آیا اور وہ انسانی ہمدردی کے تحت سٹیفائن کی مدد کرنے کو تیار ہو گیا۔ وجہ یہ ہے کہ مسٹر ینگ پچھلے پینتالیس سال سے بیکٹروفیج پر تحقیق وتجربات کر رہا تھا۔ وہ ان کی بابت خاصی معلومات رکھتا تھا۔ ینگ بتاتا ہے: ’’جب میں نے سٹیفائن کو جواب دیا تو اس نے ترنت مجھے جواب دیا۔

وہ پھر مسلسل میرے ساتھ رابطے میں رہی۔اس کی استقامت اور عرق ریزی نے مجھے بہت متاثر کیا۔ لہٰذا میں نے بھی اپنی ٹیم کو متحرک کر دیا۔ ہم ہر گندی جگہ سے بیکٹروفیجوں کے نمونے لینے لگے۔ ہمارا بھی یہ مشن بن گیا کہ ان وائرسوں کو دریافت کر کے دم لینا ہے جو ایسنٹوبیکٹر بومانی کاخاتمہ کر سکیں۔‘‘

کئی دن محنت ومشقت کرنے کے بعد رے لینڈ مع ٹیم ایسے وائرس تلاش کرنے میں کامیاب ہو گیا جنھوں نے لیبارٹری تجربات میں ’ایسنٹوبیکٹر بومانی‘ کو مار ڈالا۔ یوں ٹام کی زندگی محفوظ کرنے کی زبردست مہم میں پہلی کامیابی نصیب ہوئی۔ اس دوران مریض کے ڈاکٹر، رابرٹ سکولے نے امریکا میں غذاؤں اور ادویہ کی جانچ پڑتال کرنے والے سرکاری ادارے، ایف ڈی اے سے رابطہ کیا۔ مختلف بیکٹروفیجوں پہ مشتمل بننے والی نئی دوا ایف ڈی اے سے منظور ہونے کے بعد ہی ٹام کو مل سکتی تھی۔

نئے مسئلے کا سامنا

مسئلہ یہ تھا کہ ایف ڈی اے صرف اسی دوا کو امریکا میں استعمال کی اجازت دیتا ہے جو کلینکل تجربات سے گذر چکی ہو۔ یعنی ڈاکٹروں نے انسانوں کے ایک گروہ پہ اسے آزمایا اور وہ مفید و محفوظ ثابت ہوئی۔ چونکہ امریکا میں بیکٹروفیج تھراپی کلینکل تجربات سے نہیں گذری، لہذا اس طریق علاج سے وابستہ ہر دوا ’’ہمدردانہ استعمال‘‘( compassionate use)کا کیس سمجھی جاتی ہے۔ مطلب یہ کہ قیمتی انسانی زندگی بچنے کا امکان دیکھ کر یہ دوا استعمال کرنے کی اجازت ملتی ہے۔ مگر اس کیس کی منظوری طویل عمل ہے ۔

انسان دوست افسر

ٹام اور سٹیفائن کی خوش قسمتی کہ ایف ڈی اے میں جو خاتون ’’ہمدردانہ استعمال‘‘کے کیس دیکھ رہی تھی، وہ رحم دل تھی۔ اس نے ڈاکٹر رابرٹ سکولے کو بتایا:’’میرا خیال ہے، طویل کاغذی کارروائی کی ضرورت نہیں۔ جب بھی مطلوبہ دوا تیار ہو جائے، آپ اسے مسٹر ٹام پہ آزما سکتے ہیں۔‘‘ ڈاکٹر رابرٹ سکولے بتاتا ہے: ’’اس عورت نے پھر مجھے بتایا کہ امریکی بحریہ میں کچھ ماہرین اس کے شناسا ہیں۔ وہ بھی مطلوبہ بیکٹروفیج تلاش کرنے میں رے لینڈ ینگ کی مدد کر سکتے ہیں۔‘‘

امریکی بحریہ میدان میں

امریکی بحریہ نے بھی بیکٹروفیج وائرسوں پہ تحقیق و تجربات کے لیے ماہرین کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں۔ اھوں نے جو ایسے وائرس تلاش کیے، ان کا ڈیٹا بحریہ کے ادارے، یو ایس نیول میڈیکل ریسرچ سینٹر میں محفوظ ہے۔ یہ بیکٹروفیج دنیا بھر کی بندرگاہوں کے گندے مقامات سے اکھٹے کیے گئے۔ اب امریکی بحریہ کے ماہرین بھی ایسے بیکٹروفیج وائرس ڈھونڈنے لگے جو ٹام کو موت کے منہ میں لے جانے والے جرثومے کا خاتمہ کر سکیں۔ انھوں نے بھی ایسنٹوبیکٹر بومانی کو لیبارٹری میں پالا پوسا اور پھر مختلف بیکٹروفیج ان میں متعارف کرا کر دیکھنے لگے کہ کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ طویل تجربات کے بعد وہ بھی ایسے وائرس پانے میں کامیاب ہو گئے جو ایسنٹوبیکٹر بومانی کے خلاف موثر پائے گئے۔

جراثیم کی یخنی

اب ایک نئے مسئلے نے جنم لیا، یہ کہ ایسنٹوبیکٹر بومانی ختم کرنے والے بیکڑوفیج تیار شدہ جراثیم کی یخنی سے کیونکر الگ کیا جائیں۔ ظاہر ہے، جراثیم اور وائرسوں کا یہ مرکب ٹام کو نہیں دیا جا سکتا تھا۔ عین ممکن تھا کہ وہ ٹام کی حالت مذید خراب کر دیتا۔ لہذا ضروری تھا کہ اسے ایسا آمیزہ دیا جائے جس میں صرف ایسنٹوبیکٹر بومانی کو مارنے والے وائرس موجود ہوں۔ چناں چہ ماہرین ایسا طریق دریافت کرنے کے لیے تحقیق و تجربات کرنے لگے جس سے ایسنٹوبیکٹر بومانی کے بچے کھچے جراثیم اور بیکٹروفیج وائرسوں کو علیحدہ کیا جا سکے۔ امریکا تو کیا دنیا بھر میں ماہرین نے اب تک ایسا طریقہ ایجاد نہیں کیا تھا۔

کامیابی مل گئی

شبانہ روز محنت وتجربات کے بعد ماہرین طریق کار ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے۔ تیار کردہ آمیزہ ٹام کو دیا گیا۔ صورت حال بہت سنگین تھی۔ اگر یہ علاج الٹ جاتا تو ٹام کی موت یقینی تھی۔ خوش قسمتی سے دوا کے منفی اثرات ظاہر نہیں ہوئے بلکہ اگلے دن ٹام کی حالت سنبھل گئی۔ مطلب یہ کہ بیکٹروفیج نے ایسنٹوبیکٹر بومانی پہ دھاوا بول دیا تھا۔ امریکا میں ٹام پہلا مریض ہے جس پہ بیکٹروفیج تھراپی آزمائی گئی اور اللہ تعالی نے اسے مرنے سے بچا لیا۔ تیسرے روز کئی دن سے بے ہوش ٹام نے نہ صرف آنکھیں کھولیں بلکہ بیٹی کو پیار بھی کیا جو باپ کے سرہانے بیٹھی آنسو بہانے میں مصروف تھی۔

پاک پروردگار کا معجزہ

یہ معجزہ ہی ہے کہ ایسے ننھے جانداروں نے ایک انسان کی زندگی بچا لی جنھیں عموماً خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ سچ ہے، اللہ پاک ہر چیز پہ قادر ہیں۔ آج ٹام مکمل طور پہ صحت یاب ہو چکا۔ اس حیرت انگیز واقعے کا سبق یہی ہے کہ ہمارے دشمن جراثیم کے دشمن وائرس ہمارے دوست ہیں۔ ہم ان کی مدد سے ایسے کئی موذی جراثیم مار سکتے ہیں جو انسانوں میں خطرناک بیماریاں پھیلاتے ہیں۔ بیکٹروفیج تھراپی کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ماہرین نے ابھی یہ شناخت کرنا ہے، کون کون سے بیکٹروفیج کن کن جراثیم کو نشانہ بناتے ہیں۔ جب بھی یہ تحقیق مکمل ہوئی، دنیا بھر میں ڈاکٹر بیکٹروفیج کی مدد سے بھی جراثیم کی پیدا کردہ بیماریوں کا علاج کرنے لگیں گے۔


%d9%88%d8%a7%d8%a6%d8%b1%d8%b3-%d9%86%db%92-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%be%d8%b1%d9%88%d9%81%db%8c%d8%b3%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86-%d8%a8%da%86%d8%a7-%d9%84%db%8c

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *