دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کی لائن پھٹنے سے کراچی میں پانی کا بحران سنگین

0

  کراچی: دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کی لائن پھٹنے سے کراچی میں پانی  کا  بحران سنگین، شہری پانی کی بوند بوند کوترس گئے، جگہ جگہ احتجاج کا سلسلہ جا ری ہے۔ 

تفصیلا ت کے مطابق کراچی ان دنوں شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے جس کی وجہ سے پانی کی طلب میں بھی بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے لیکن واٹر کاپوریشن کی جانب سے شہر میں پانی کی فراہمی بری طرح متاثر ہے۔

دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پرلائن پھٹنے سے مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی متاثرہو ئی ہے جس کی وجہ سے پانی کا بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔

مختلدف علاقوں میں پانی کی قلت کے ستائے شہریوں کا سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنا معمول بن گیا ہے اور شہریوں کی جانب سے انوکھا احتجاج بھی شروع کردیا ہے ، پانی فراہم  کر نے والے ٹینکر سڑک پر روک اس کا وال کھول دیا جا تا اور سارا پانی بہادیا جا تا ہے جس سے سرکاری ہائیڈرنٹس سے بھی پانی کی فراہمی شدید متاثرہوگئی ہے۔

واٹر کارپوریشن کے ذرائع نے بتایا کہ عوامی احتجاج  کے باعث صفورہ ہائیڈرنٹ کو بندکردیا گیا کیون کہ وہاں نکلنے والے ٹینکرز کوشہری روک کر اس کا پانی سڑک پر بہا ر ہے تھے، صفورہ ہائیڈرنٹس کے باہر تمام ٹینکروں کے نل کھول کر پانی بہادیا گیا جس کی وجہ سے واٹر کارپوریشن نے صفورہ ہائیڈرنٹ کو بند کردیا۔

اسی طرح کی صورتحال لانڈھی فیوچرکالونی ہائیڈرنٹ پر پیش آرہی ہے جہاں ایک جانب سے شہری احتجاج کرکے ہائیڈرنٹ کو بند کرارہے ہیں ہے تو دوسری جانب سے فیوچرکالونی لانڈھی  ہائیڈرنٹ پر تین دن سے بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہے جس کی وجہ  سے پانی کی فراہمی بند ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ کرش ہائیڈرنٹ ون اور ٹو بھی بند ہے جہاں بجلی کی فراہمی بند ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ شیرپاؤ ساؤتھ ہائیڈرنٹ پر بھی بجلی کی فراہمی بند ہے۔

ذرائع واٹر کارپوریشن نے بتا یا کہ  کراچی میں صرف دو ہائیڈرنٹس نیپا اور سخی حسن سے شہریوں کو پانی فراہم کی جا رہا ہے جبکہ 5 ہائیڈرنٹس بجلی  کی فراہمی منقطع ہونے اور شہریوں کے احتجاج کی وجہ سے بند  ہیں جس کے باعث شہر میں پانی کی فراہمی طرح متاثر ہو گئی ہے اور شہری پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں۔


%d8%af%da%be%d8%a7%d8%a8%db%8c%d8%ac%db%8c-%d9%be%d9%85%d9%be%d9%86%da%af-%d8%a7%d8%b3%d9%b9%db%8c%d8%b4%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%86-%d9%be%da%be%d9%b9%d9%86%db%92-%d8%b3%db%92-%da%a9

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *