جرائم کا سرچشمہ حکومت اور نظام (آخری حصہ)

0

جس معاشرے میں قانون آئین، انصاف، نظریے عقیدے دین وایمان،دیانت، صرف الفاظ اور نام بن کر رہ جائیں حقوق وفرائض کا توازن بگڑ جائے۔شاٹ کٹوں کی بھرمار ہوجائے جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون مستقل ہوجائے یعنی

اسپ تازی شدہ مجروح بہ زیر پالان

طوق زریں ہمہ گردن خرمی بینم

ایلہاں راہمہ شربت زگلاب وقندست

قوت دانا ہمہ از خون جگر می بینم

ترجمہ۔جہاں تازی اور اصیل گھوڑے بودے ڈھو ڈھوکر زخمی ہوں اور گدھوں کی گردنوں میں سونے کی طوقیں ہوں۔جہاں نالائق قند وگلاب کے شربت پی رہے ہوں اور داناؤں کی گزر اوقات خون جگر بن جائے۔ایک شخص جگر پی پی کر لائق فائق ہونے کے باوجود نان و نفقہ کو ترسے اور خاص خاص جاہل احمق بڑے بڑے مناسب پائیں۔

جہاں خون کرنے والا مہنگا وکیل کرکے باعزت بری ہوجائے اور ایک روٹی چرانے والے کو قید بامشقت ملے۔جہاں تھانے کچہری میں شریف لوگوں کی ضمانت کے لیے غنڈے بدمعاشوں کی ضرورت ہو۔جہاں دین ایمان سب کچھ بکاؤ ہو انصاف بکاؤ ہو۔اپنا حق حاصل کرنے کے لیے غاصب کے پیر پکڑنا پڑیں وہاں عام آدمی کیا کرے گا۔ سوائے’’جرم‘‘ کے اس کے پاس اور کون سا راستہ باقی ہوتا ہے

اتنے حصوں میں بٹ گیا ہوں میں

میرے حصے میں کچھ بچا ہی نہیں

زر کے ہاتھوں میں بک گئے سبھی

اب کسی جرم کی سزا ہی نہیں

میں نے گزشتہ کئی کالموں میں تکراراً یہ بات کہی ہے کہ ہر معاشرے کی بنیاد حقوق و فرائض کے توازن پر ہوتی ہے۔ایک کے حقوق، دوسرے کے فرائض ہوتے ہیں اور دوسرے کے فرائض پہلے والے کے حقوق ہوتے ہیں خریدار کا فرض ادائیگی ہے جو دکاندار کا ’’حق‘‘ ہے اور دکاندار کا فرض کوئی چیز دینا ہے جو ادائیگی کرنے والے کا حق ہوتا ہے۔یوں حکومت کے جو’’حقوق‘‘ ہیں ٹیکس لگانا وغیرہ، وہ عوام کے فرائض ہیں اور عوام کے جو حقوق ہوتے ہیں وہ حکومت کے فرائض ہوتے ہیں۔لیکن ہمارے ہاں ہو یہ رہا ہے کہ حکومت اپنے حقوق تو بڑھ چڑھ کر اگر بہ رضا ورغبت نہیں تو زور زبردستی سے حاصل کرلیتی ہے لیکن اپنے فرائض جو عوام کا حق ہوتے ہیں ادا نہیں کرتی۔

عوام سے جو ٹیکس وغیرہ وصول کیے جاتے ہیں ان کے بدلے عوام کے حقوق جو حکومت پر لاگو ہوجاتے ہیں، چار ہیں ایک عوام کی جان و مال اور عزت کا تحفظ، دوم عوام کی صحت کا تحفظ، سوم تعلیم کا تحفظ،چہارم روزگار کا تحفظ۔اور جہاں جہاں جن جن ممالک میں یہ توازن برقرار ہے وہاں ایسا ہی ہو رہا ہے۔اور جب حکومتیں اپنے یہ چار فرائض ادا کرتی ہیں تو عوام خوشی خوشی حکومت کے حقوق کو اپنے فرائض سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔

کیونکہ وہ اپنے اوپر حکومت کے تحفظ کا چھتر چھایا پاکر بے فکر ہوجاتے ہیں۔لیکن پاکستان جیسی حکومتوں میں جہاں حکومت بجائے خود عوام دشمنوں پر مشتمل ہوتی ہے وہاں عوام سے’’وصولی‘‘ تو کی جاتی ہے لیکن بدلے میں کچھ بھی نہیں دیا جاتا ہے کیونکہ سب کچھ اشرافیہ کے چالیس چور آپس میں تقسیم کرکے ہڑپتے ہیں اور بیچارے عوام خود ہی اپنے تحفظ کے ذمے دار ہوتے ہیں۔کسی کے بس میں ہو تو جان مال اور عزت کا تحفظ بھی خود کرنا پڑتا ہے تعلیم صحت اور روزگار بھی خود خریدنا پڑتے ہیں۔یوں ایک ملک، ایک حکومت اور ایک ہی معاشرے میں ہر فرد خود یکہ وتنہا غیر محافظ اور دشمنوں میں گھرا ہوا محسوس کرتا ہے۔

ایسے معاشروں میں بے پناہ اونچ نیچ پیدا ہوتی ہے اور نہایت ہی غیرہموار نظام تشکیل پاتا ہے۔جس میں کچھ لوگ شارٹ کٹوں کے ذریعے بہت دور پہنچ جاتے ہیں اور عام آدمی غیر ہموار راستے پر ٹھوکریں کھانے لگتا ہے۔ یوں معاشرہ دو مختلف اور متضاد دو فریقوں میں بٹ جاتا ہے ایک اشرافیہ جو کچھ بھی نہ کرکے سب کچھ ہڑپتا ہے اور دوسرا وہ جو سب کچھ کرکے بھی کچھ نہیں پاتا۔سرکار اور عوام کے درمیان خلیج بڑھتے بڑھتے اس انتہا کو پہنچ جاتی ہے کہ نالائق بے ایمان اور نااہل لوگ ان مقامات پر پہنچ جاتے ہیں جو لائق اور اہل لوگوں کا حق ہوتا ہے، گویا چمن کے ہر شاخ پر اُلوؤں کا قبضہ ہوجاتا ہے پھر اس گلستان کا یہی انجام ہوتا ہے کہ محروم،بے بس عدم تحفظ کا شکار لوگ اس معاشرے اس نظام کے ہی دشمن ہوجاتے ہیں اور جرائم کا راستہ اختیار کرلیتے ہیں۔

اس ناہموار،ناانصاف اور استحصالی معاشرے کے اصولوں اور قانون کو پامال کرنے لگتے ہیں۔انسان بنیادی طور پر امن پسند،عافیت پسند اور سکون پسند ہوتا ہے ہر کوئی چاہتا ہے کہ دن بھر تھک ہارنے کے بعد وہ ایک پرسکون گھر میں جو کچھ میسر ہو کھالے اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آرام کی نیند سوئے۔لیکن جب وہ جرائم کی راہ اختیار کرکے خود کو بھی عذاب میں مبتلا کرتا اپنے خاندان کو بھی مصیبتوں میں ڈالتا ہے، خواب و خور کو اپنے اوپر حرام کرتا ہے تو اس کے پیچھے کچھ عوامل ہوتے ہیں اور وہ عوامل ناہموار معاشرہ پیدا کرتا ہے، وہ ناہموار معاشرہ جو افراد پر اپنے حقوق حاصل کرنے کے تمام راستے بند کردیتا ہے ایسے معاشرہ کے افراد کے لیے پھر ایک ہی راستہ بچتا ہے وہ راستہ جسے وہ معاشرہ غیرقانونی قرار دیتا ہے جب کچھ لوگ خاص خاص اور اشرافیہ کے مخصوص ہتھکنڈوں سے کام لے کر راتوں رات آسمان ہوجاتے ہیں قطعی ناجائز طریقے پر نوکریاں اور روزگار ایک مخصوص طبقے کے قبضے میں چلے جاتے ہیں۔

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ مجرم وہ نہیں ہوتا جو ’’تالا‘‘ توڑ کر چوری کرتا ہے بلکہ وہ ہوتا ہے جو دولت ’’جمع‘‘کرکے تالے میں بند کرتا ہے۔ جب دس لوگوں کے حصے کی دس روٹیوں میں سے کچھ لوگ دو دو روٹیاں لے لیتے ہیں تو محروم ہونے والے کیا کریں گے یا تو بھوک سے مریں گے اور یا حق سے زیادہ روٹیاں کھانے والوں کے درپے ہوں گے۔جنسی جرائم کی ایک الگ داستان ہے ۔ایک طرف بے پناہ ترغیبات اور دوسری طرف بے پناہ محرومی ساری بات کو مختصر طور پر یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ جرائم کا سرچشمہ افراد نہیں بلکہ حکومت اور نظام ہوتا ہے۔


%d8%ac%d8%b1%d8%a7%d8%a6%d9%85-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%d8%b1%da%86%d8%b4%d9%85%db%81-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85-%d8%a2%d8%ae%d8%b1%db%8c-%d8%ad%d8%b5%db%81

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *