بھارت متنازع سرحدی علاقے پر تعمیرات نہیں کرسکتا، چین

0

رپورٹس کے مطابق بھارت شمال مشرقی سرحدی علاقے میں ایک ارب ڈالر کی لاگت سے 12 ہائیڈروپاور منصوبوں پر کام میں تیزی لانے کا منصوبہ بنا رہا ہے—فوٹو: رائٹرز

رپورٹس کے مطابق بھارت شمال مشرقی سرحدی علاقے میں ایک ارب ڈالر کی لاگت سے 12 ہائیڈروپاور منصوبوں پر کام میں تیزی لانے کا منصوبہ بنا رہا ہے—فوٹو: رائٹرز

بیجنگ: چین کی وزارت خارجہ نے بھارت کو جنوبی تبت کے علاقوں میں ہائیڈرو پروجیکٹ پر کام میں تیزی لانے کے منصوبوں پر ردعمل میں کہا ہے کہ بھارت متنازع سرحدی علاقوں میں تعمیرات نہیں کرسکتا۔

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق چینی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ جنوبی تبت چین کا علاقہ ہے لہٰذا بھارت کو وہاں تعمیراتی کام کروانے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ بھارت کی جانب سے چین کے خطے کو ارونا چل پردیش کا علاقہ کہنا غیرقانونی اور غلط ہے۔

قبل ازیں رائٹرز نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ بھارت شمال مشرقی ہمالیائی ریاست میں ایک ارب ڈالر کی لاگت سے 12 ہائیڈرو پاور اسٹیشنز کی تعمیر میں تیزی لانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

بھارت کی وزارت خارجہ نے اس رپورٹ پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا تھا تاہم بھارت کا مؤقف ہے کہ ارونا چل پردیش بھارت کا حصہ ہے لیکن چین کا دعویٰ ہے کہ یہ جنوبی تبت کاعلاقہ ہے، اسی بنیاد پر بھارتی حکومت کے تعمیراتی کاموں کی مخالفت کی ہے۔

گزشتہ ہفتے بھارت کے وزیرخارجہ سبراہمینمم جے شنکر نے قازقستان میں چینی ہم منصب سے ملاقات کی تھی جہاں دونوں رہنماؤں نے سرحدی تنازعات حل کرنے پر اتفاق کرلیا تھا۔

 


%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d9%85%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b2%d8%b9-%d8%b3%d8%b1%d8%ad%d8%af%db%8c-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%db%92-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%d8%b9%d9%85%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%d9%86%db%81

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *