کرتارپور کوریڈور زیرولائن کے قریب دریا راوی پر پل کی تعمیر مکمل

0

فوٹو : ایکسپریس نیوز

فوٹو : ایکسپریس نیوز

 لاہور: پاکستان نے کرتارپور کوریڈور زیرولائن کے قریب دریائے راوی پر پل کی تعمیر کا کام مکمل کرلیا ہے تاہم زیرولائن پر بھارت کی طرف پل کی تعمیر کا سات میٹر کا حصہ باقی ہے جس کے بعد بھارتی یاتری پل کے راستے گوردوارہ دربار صاحب درشن کے لیے آسکیں گے۔

کرتارپور کوریڈور پر پل کی تعمیر پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت مکمل کی گئی ہے جس کے لیے 4.53 ملین روپے کا بجٹ مختص کیا گیا تھا۔ منصوبے کے تحت 420 میٹر طویل اس پل کی تعمیر دسمبر 2021 میں مکمل ہونا تھی لیکن مالیاتی مجبوریوں اور ملک میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے پل کی تعمیر بروقت مکمل نہیں ہوسکی تھی۔

کرتار پور پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے ڈپٹی سیکریٹری (مینجمنٹ) اور متروکہ وقف املاک بورڈ کے ایڈیشنل سیکریٹری (شرائنز) سیف اللہ کھوکھر نے بتایا کہ اس پورے پراجیکٹ کے لیے فنڈنگ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کی طرف سے کی گئی ہے جبکہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) اور نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان (نیسپاک) نے تعمیر مکمل کرنے میں تعاون کیا ہے۔

کھوکھر نے کہا کہ کرتارپور کوریڈور کے اس پل سے بھارتی علاقے میں سیلاب کا خطرہ تقریباً ختم ہوگیا ہے اور پاکستان آنے والے بھارتی یاتری اب زیرو لائن کے علاقے میں نئے محفوظ راستے سے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس پل کی تعمیر سے سفری فاصلہ بھی تقریباً 50 میٹر کم ہو جائے گا اور کرتار پور صاحب کا سفر بارش اور سیلاب کے دوران بھی بلا تعطل جاری رہ سکے گا جبکہ اس سے قبل سیلاب کے دوران بھارتی حکام نے گوردوارہ صاحب آنے والے بھارتی زائرین کا داخلہ روک دیا تھا۔

واضع رہے کہ 2019 میں جب کرتارپور کوریڈور کھولا گیا تواس وقت ہی تجویز سامنے آئی تھی کہ کرتارپور زیرولائن کا علاقہ نشیبی ہے یہاں بارشوں اور سیلاب کے دوران پانی آنے کا خطرہ ہے جس سے کوریڈور کے راستے یاتریوں کی آمد و رفت متاثر ہوگی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کی طرف سے بھی پل کا سات میٹر کا حصہ جلد ہی مکمل ہوجائے گا جس کے بعد یاتریوں کی موجودہ راستے کے بجائے پل کے ذریعے آمد و رفت شروع کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔


%da%a9%d8%b1%d8%aa%d8%a7%d8%b1%d9%be%d9%88%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%b1%db%8c%da%88%d9%88%d8%b1-%d8%b2%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%82%d8%b1%db%8c%d8%a8-%d8%af%d8%b1%db%8c

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *