ابھی تو چھٹیاں باقی ہیں۔۔۔

0

پچھلی بار گرمیوں کی تعطیلات کا ’ریفریشنگ کورس‘ پورا کر کے لوٹے تو اس قدر تازہ دم ہوئے کہ سوچا لگے ہاتھوں آپ کو بھی  مشورہ دیں کہ آپ نے اگر اس دفعہ اب تک گرمیوں کی چھٹیوں میں کہیں نکلنے کا پروگرام نہیں بنایا، تو جھٹ پٹ بنا لیجیے، چاہے ایک ہفتے یا چند دنوں کے لیے ہی سہی، لیکن باہر نکلیے اور گھومیے پھریے ضرور، کیوں کہ گرمیوں کی چھٹیاں کہنے کو چھٹیاں، لیکن درحقیقت یہ سیّاحت کا ایک موقع اور سہولت ہیں، جو ہماری مصروفیت کی ڈور میں بندھے ہوئے ہمارے ہاتھ پاؤں کھول کر نہ صرف تازہ آکسیجن مہیا کرتا ہے، بلکہ ہمارے ذہنوں کو بھی تازہ دم کرتا ہے۔ جس طرح ایک گاڑی کے انجن کو ایندھن کے ساتھ ساتھ کچھ نہ کچھ مرمت اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح بدلتی ہوئی جگہ اور آب و ہوا صرف آپ کی صحت پر ہی اچھا اثر نہیں ڈالتی، بلکہ بچوں کے ساتھ یہ تفریح آپ کو ساتھ مل بیٹھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

سال بھر میں یہ ایک ہی موقع ملتا ہے، بہت دیر اکھٹا ہونے اور مل بیٹھنے کا، کتنے ہی ادھورے وعدوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کا، مستقبل کے ان گنت فیصلوں پر سب کی مہر لگانے کا، ہر ایک کی باتوں ہی باتوں میں رائے لیتے ہوئے، ہم  بالاخر کسی نہ کسی نتیجے پر پہنچ ہی جاتے ہیں۔ گھر کے کئی رکے ہوئے کام، بچوں کی شادیوں کے مرحلے، کئی مہینوں کے اٹکے ہوئے کام سر جوڑے منٹوں میں حل ہو جاتے ہیں اور یوں یہ چھٹیاں محض سیر وتفریح ہی نہیں، بلکہ بپت سے امور کار آمد نسخہ بن کر ہمیں مستقبل کے نئے سفر کے لیے ادھورے پلان مکمل کرانے کے لیے تازہ دم کر دیتی ہے۔

روزمرہ کے معمولات میں یوں تو مل بیٹھنا نصیب ہی نہیں ہوتا، وہ بچوں کو اسکول بھیجنا، یا پھر انھیں لانا اور لے جانا اور بطور خاتون خانہ  گھریلو مصروفیت آڑے رہتا ہے اور فرصت کا موقع فراہم کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ گھر گرہستی کی ذمہ داریاں، تو کبھی فکر معاش کے جتن ہمیں گھن چکر بنائے رکھتی ہیں۔ کہیں خاتون خانہ اپنے باورچی خانے کے دام فریب سے نہیں نکل پاتیں اور کہیں میاں جی کی مصروفیتیں انھیں دفتری فائلوں سے نظر اٹھانے و دفتر سے نکلنے نہیں دیتیں۔۔۔ بچے اسکول کا ہوم ورک کرتے کرتے، ٹیسٹ کی تیاری کرتے کرتے ماں باپ کی شکلیں دیکھے بغیر ہی رات کو سو جاتے ہیں اور یوں سبھی اپنے اپنے دائروں میں گردش کرتے رہتے ہیں۔

ایسے میں گرمیوں کی چھٹیاں گویا سب کی فراغت کا وہ لمحہ جو بن کہے وہ سب کچھ آپ کی جھولی میں ڈال دیتا ہے، جو روزمرہ کی الجھنوں میں ناممکن ہوتا ہے، کہیں بچوں کے ابو کی چھٹی کی درخواست منظور کراتے اور کہیں امی کچن کو بند کرتے ہوئے سب کو اکھٹا کرتی ہیں۔

ذہنی تفریح کے ساتھ جسمانی تفریح و گھومنا پھرنا، بے فکری سے سونا اٹھنا نہ کھانا بنانے کی فکر نہ راشن کی تگ و دو۔۔۔ یہ سب ہمارے ذہن کو وہ آسودگی مہیا کرتی ہے کہ ناشتا وکھانا اکھٹا کھاتے ہوئے سارے لمحے بچوں کے نام ہی ہو جاتے ہیں، انھی کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا اور  تیار ہو کر باہر نکلنا، جہاں چوبیس گھنٹے انھیں ہمارے ساتھ رکھتا ہے، وہیں ہم بھی پل پل اس سے وہ لطف اٹھاتے ہیں کہ وہ زندگی سے بیزاری و کوفت سب بھک سے اڑجاتی ہے۔ پھول سے مسکراتے چہرے، اپنائیت و محبت کی خوشبوئیں پھیلاتے ہوئے زندگی کو اپنے حصار میں لے کر زندگی کو  مطمئن سکون و آسودگی بخشتے ہیں۔ اس طرح قدرت کی پناہ دل آویزیوں سے لطف اٹھاتے ہوئے ہم زندگی کا وہ رخ جو ’’تھکن و تھکاوٹ‘‘ سے چور ہوتا ہے، بھول ہی بیٹھتے ہیں۔

گرمیوں کے تپتے ہوئے ریگزار سے نکل کر پُرفضا سیاحتی مقامات کی سیر، وہ مری کی بل کھاتی ہوئی سڑکوں پر چڑھائی چڑھتے ہوئے خطرناک موڑ کاٹتے ہوئے قدرتی مناظر کے ساتھ چلتے ہوئے کسی خوب صورت مقام پر گاڑی کو روکتے ہیں، تو مزاج میں تازگی اتر آتی ہے۔ پھر ایسے میں اگر گرما گرم پکوڑوں کی خوش بو کے ساتھ گرم چپاتی قدرتی رنگ و روغن سے یوں آراستہ کرتی ہے، تراوٹ و تازگی بخشتی ہے کہ ’زندگی کے گھنے سائے یک دم لمبے ہونے لگتے ہیں۔‘ مری کے سرمئی بادلوں کی دھند کی چادر اوڑھے ہوئے کہیں ایبٹ آباد کی اونچی نیچی ڈھلانوں پر قدم رکھتے ہوئے، ایوبیہ کی لفٹ میں ہواؤں کے دوش پر اڑتے ہوئے وہ گرمی کے بھبکے، وہ لو کے تھپیڑے خود بخود ان ٹھنڈی پھواروں میں بھیگتے ہوئے آپ کو یوں تازہ دم کرتے ہیں کہ وہ شہروں کا گردو غبار اور شور و غل مچاتی ہوئی بھاگتی دوڑتی سڑکوں پر گاڑیوں کا دھواں سب کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔

اس تازہ ہوا میں سانس لیتے لیتے وہ پنکھوں یا ’اے سی‘ کے بند کمروں کی گھٹن بھول جاتے ہیں اور اس قدرتی حسن سے مالا مال ہوتے ہیں، جو قدرت کی بے پناہ فیاضیوں سے ہمارے لیے پاکستان کے کونے کونے میں بکھیرا ہوا ہے۔ اڑتے بادلوں کو پکڑنے کی کوشش میں پاؤں تلے سرسراتی ہوئی ٹھنڈی سبز گھاس کی تراوت لیے ان فطری رنگوں سے ہم آہنگ ہوتے ہیں، جو حقیقتاًؓ ہماری روح کا رنگ لیے اس کی پژمردگی دور کر دیتی ہے، ہر غم بھلا دیتی ہے۔ پتوں کے سنگ تالیاں بجاتے، ہنستے، گاتے بچوں کے ساتھ شغل، کبھی آئس کریم کا کپ ہاتھ میں پکڑے، کبھی کافی کا مگ، کہیں گرم گرم چپس کھاتے خوش گوار موسم کی رُت کا لطف اٹھانا انھی چھٹیوں کے ہی کرشمے ہیں، جو ہمیں کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں۔

ہم روزمرہ کی زندگی میں مشین بن کر اپنے ’کُل پرزوں‘ کو تازہ ہوا سے محروم کر کے وہ زنگ لگا دیا ہے، جو عام زندگی میں لاکھ کھرچنے پر بھی اتر نہیں سکتا۔‘‘ زندگی کی الجھنوں کو سمیٹتے ہوئے ان کی گرہیں اور بل کھولتے ہوئے کبھی روز و شب کی الجھنوں سے نکل ہی نہیں پاتے، یہ بھی کرلیں، وہ بھی کرلیں کہتے ہوئے وقت کے گزرتے پلوں سے لطف اندوز ہو ہی نہیں پاتے۔ ہر روز کوئی نہ کوئی بکھیڑا، نہ صبح اپنی، نہ شام اپنی۔

گرمیوں کی چھٹیاں زندگی کی تازگی و رعنائی لیے یوں بانہیں کھولے ہمیں دعوت دیتی ہیں کہ باغ ہرے ہیں، پھول کھلے ہیں، باد بہاراں ہے، ان کی آواز پر سر دھن کر قدرت کے ان نظاروں سے لطف اندوز ہوں، سوات کے آبشاروں سے گرتے ہوئے پانی و دریا میں پاؤں لٹکاکر تازہ گھاس پر ننگے پاؤں چل کر، پھولوں کی خوش بوؤں سے دل و دماغ معطر کرتے ہوئے، پرانے نغموں کی دھنوں پر سر رکھ کر سر دھنیں یقیناً خود بخود جھوم نہ اٹھیں تو کہیے گا۔

ان چھٹیوں کا مزہ بچوں سے لے کر بوڑھوں تک کے لیے یک ساں طمانیت و خوشی کا سبب ہے۔ بچوں کے اسکولوں کے زمانے میں جہاں آپ بچوں کو گھمانے پھرانے لے جاتے ہیں اور جب وہی بچے اپنے گھر بار کے ہو جاتے ہیں، تو ان کے ساتھ سیر کا لطف ہی کچھ اور ہو جاتا ہے، آپ بڑھاپے کی دہلیز پر اور بچے آپ کی ڈرائیونگ سیٹ پر، کل جہاں آپ تھے آج وہاں ان کے بچے اور آپ پچھلی سیٹ پر ٹیک لگائے انھی کے بچوں کو گود میں لیے کبھی گہری نیند سوتے اور کبھی کچی نیند اٹھتے ہیں تو بچے فوراً آپ کو چائے کی گرم گرم پیالیکے ساتھ چپس لیے آپ کے اٹھنے کے منتظر، یعنی جہاں کبھی ہم انھیں چاکلیٹ، بسکٹ، ٹافی، آئس کریم کھلاتے ہوئے بہلاتے تھے، آج وہ ہماری جگہ کھڑے ہماری ہی آؤبھگت میں مصروف، کبھی ہماری دواؤں کا خیال، کبھی کمبل ٹھیک کرتے ہوئے، کبھی اخبار رکھتے ہوئے اور عینک صاف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وقت کا گھومتا ہوا پہیا آج بھی کہہ رہا ہے گرمیوں کی چھٹیاں مل بیٹھنے کا بہترین موقع ہے۔

ان لمحوں کو امر کرنے کے لیے وقت بھی چاہیے اور پیسہ بھی، کیوں کہ گاڑی پیٹرول مانگتی ہے، تفریح کے لیے جیب بھی گرم چاہیے۔ لگے ہاتھوں بتاتے چلے بہت اونچی اڑان، بہت مہنگے ہوٹلوں اور بہت سارے کمرے لینے کے بہ جائے دو کمروں بر اکتفا کیجیے، میٹرس بچھاکر لُڈو بھی کھیلیے اور کیرم بورڈ بھی۔ اور کم پیسوں میں ڈھیر سارا لطف اٹھائیے، جوڑی گئی رقم میں کچھ پیسے نکال کر کچھ اپنی ذات پر خرچ کیجیے۔ کچھ لمحے اپنی نام، کچھ بچوں کے نام، کیوں کہ یہی لمحے آپ کو جینا سکھاتے ہیں، ہنسنا سکھاتے ہیں۔ زندگی کی قدرو قیمت سے آگاہ کرتے ہیں۔ زندگی کی دوڑ اتنی لمبی نہیں کہ اسے تانوں بانوں میں الجھایا جائے، جانے کب اور کہاں اٹک کر یہ سانس کی ڈوری ٹوٹ جائے، سو اب بھی وقت ہے، باقی ماندہ چھٹیاں ضائع مت کیجیے۔


%d8%a7%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%aa%d9%88-%da%86%da%be%d9%b9%db%8c%d8%a7%da%ba-%d8%a8%d8%a7%d9%82%db%8c-%db%81%db%8c%da%ba%db%94%db%94%db%94

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *