سوا لاکھ کا جانور ذبح کرنے کے قصائی نے 40 ہزار مانگ لیے

0

اناڑی قصائیوں نے چھریاں تیز کرلیں، قربانی کرنیوالوں کی جیب پر چلے گی

اناڑی قصائیوں نے چھریاں تیز کرلیں، قربانی کرنیوالوں کی جیب پر چلے گی

 لاہور: عید قرباں پر جانور قربان کرنے والوں کے لئے ماہرقصائی کی خدمات حاصل کرنا مشکل ہوجاتا ہے، قصائیوں کی کمی کے باعث ناصرف اناڑی قصائیوں نے بھی چھریاں تیز کرلی ہیں جو عید پرجانور کے ساتھ ساتھ قربانی کرنیوالوں کی جیب پر بھی چلیں گی۔

عید پر سنت ابراہیمی ادا کرنیوالوں خاص طور پر بڑے جانور قربان کرنیوالوں کو ماہر قصائی کی خدمات حاصل کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

سمجھ دار شہری عید سے کئی ہفتے پہلے ہی قصائی کی بکنگ کرلیتے ہیں لیکن زیادہ تر شہری چونکہ عید سے چند روز قبل جانور خریدتے ہیں اور پھر قصائی کی تلاش کرتے ہیں تو ماہرقصائی ملتا نہیں جبکہ ریٹ بھی زیادہ کردیاجاتا ہے۔

گلبرگ کے رہائشی محمد بلال کہتے ہیں انہوں نے عید سے دو روز قبل جانور خریدا تھا اب قصائی تلاش کررہے ہیں ، جس قصائی کے پاس جاتے ہیں وہ کہتا ہے بکنگ ہوچکی ہے، عید کے دوسرے یا تیسرے دن کروالیں، پہلے دن کے بہت زیادہ پیسے مانگ رہے ہیں۔

ایک اورشہری رانامبشر حسن نے بتایا عید کے پہلے دن صبح کے وقت جانور ذبیح کرنے اور گوشت بنانے کے لئے قصائی نہیں مل رہا، 35 سے 40 ہزار روپے مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ایک لاکھ 20 ہزار کا جانور خریدا ہے اور 40 ہزار قصائی مانگ رہا ہے۔

اس عید پر بڑے جانور کو ذبیع کرنے اور گوشت بنانے کا ریٹ دن اور وقت پرمنحصر ہے، عید کے پہلے روز صبح کے وقت بڑے جانور کا گوشت باننے کا ریٹ 35 ہزار روپے، دوپہر کے بعد 30 ہزار اور دوسرے دن 25 ہزار روپے ہے۔

بکرے ،چھترے کی قربانی اورگوشت بنانے کا ریٹ عید کے پہلے دن ، صبح کے وقت 8 سے 10 ہزار ، دوپہر کو پانچ ہزار اور دوسرے،تیسرے روز چار سے پانچ ہزار روپے ہے۔ مرغیاں اور مچھلی کا گوشت فروخت کرنیوالے بھی اب تین دن جانور قربان کریں گے۔ ماہرقصائی ان لوگوں کو ہیلپر کے طور پر ساتھ لے جاتے ہیں۔

ایک قصائی محمدصابر نے بتایا یہ تاثردرست نہیں کہ قصائیوں نے ریٹ بڑھا دیئے ہیں۔ اب اگر لاہور میں ایک لاکھ لوگوں نے جانور قربان کرنے ہیں تو ایک لاکھ قصائی تونہیں ہوں گے۔ ہم نے ایک معقول ریٹ رکھا ہے جنہوں نے پہلے سے بکنگ کروا رکھی ہے ان کے جانور پہلے تیار ہوں گے۔

انہوں نے کہا ہمارا یہاں کسی میں صبر نہیں ہے، ہرایک کی خواہش ہے کہ سب سے پہلے اس کا جانور قربان کیا جائے۔ اسی چکر میں وہ اناڑیوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو جانور کی کھال اورگوشت دونوں کو خراب کردیتے ہیں۔

شہریوں کاکہنا ہے حکومت کو چاہیے کہ چھوٹے ، بڑے جانوروں کی قربانی اورگوشت بنانے کے سرکاری ریٹ مقررکئے جائیں تاکہ شہری اناڑی قصائیوں کے ہاتھوں لٹنے سے بچ سکیں۔


%d8%b3%d9%88%d8%a7-%d9%84%d8%a7%da%a9%da%be-%da%a9%d8%a7-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d9%88%d8%b1-%d8%b0%d8%a8%d8%ad-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%da%a9%db%92-%d9%82%d8%b5%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d9%86%db%92-40-%db%81

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *